Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD300.00 USD335.00

Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more

Bukhara - بخارا yadgar e zaman hain log قیسی رامپوری (پیدائش: 20 جون

SKU: 99196316499
4.3

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 15 - Aug 20

Description

قیسی رامپوری (پیدائش: 20 جون 1908ء - وفات: 10 فروری 1974ء)، اُردو زبان کے معروف مصنف، ناول نگار، ڈراما نویس، مترجم اور افسانہ نگار تھے۔ وہ صاحبِ اسلوب ادیب، تذکرہ نگار اور سفرنامہ نگار ملا واحدی دہلوی کے داماد تھے۔ قیسی کی جائے پیدائش رامپور ٹھہری۔ پہلے قیسی اجمیری کے نام سے بھی لکھتے رہے۔ اصل نام حامد الدین خلیل الزماں خان، والد بزرگوار کا نام محمد زمان خان، سلسلۂ نسب چونتیسویں پشت میں حضرت قیس عبدالرشید سے جاکر ملتا تھا جن کا مزار کابل میں ہے۔ پردادا کابل سے نوشہرہ آکر آباد ہوگئے تھے۔ والد نے رختِ سفر باندھا اور ریاست کوٹہ آکر آباد ہوگئے۔ اپنے قیسی ہونے کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں، ’’قیسی نہ تو میرا تخلص ہے نہ جناب قیس عامری کی لیلیٰ پرست ذات سے میرا کوئی تعلق ہے۔‘‘ فکرِ معاش سے آزاد ہوکر ادیب فاضل کا امتحان دیا، اس کے بعد منشی فاضل کا اور آخر میں انٹر کا۔ ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز اجمیر سے ہوا۔ رسالہ کیف میں پہلا افسانہ ’’ایثارِ مجسم‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ وہاں ان کی ملاقات رفیعی اجمیری سے ہوئی۔ کچھ عرصہ خواجہ حسن نظامی کے ہاں دہلی میں بھی قیام کیا۔ ادب میں انھوں نے ناول نگاری کے حوالے سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ معاشرتی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر لاتعداد ناول تحریر کیے جس کا سلسلہ تقسیمِ ہند کے بعد ان کی وفات تک جاری رہا۔ ان کے ناولوں کی تعداد 100 سے زائد ہے جن میں رضیہ سلطانہ، چاند بی بی، ٹیپو شہید، آخری فیصلہ، خیانت، نکہت، اچھے دن، عمو، انجم، اپاہج، برہنہ، بے آبرو، چوراہا، دل کی آواز، فرزانہ، حُور، ابلیس، اجالا، تیسرا راستہ، فردوس، کلیم وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کے کچھ ادبی جرائد کی ادارت بھی کی۔ ایک تخلیق کار، مترجم اور ادیب کے طور پر قیسی نے بھرپور زندگی گزاری۔ انھوں نے اپنی تخلیقی قوت، زورِتخیل، فنی ہنرمندی اور اندازِ بیان کی سادگی و جاذبیت کے ذریعے بیسویں صدی کی وسطی دہائیوں میں اردو کے افسانوی ادب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے تاریخ کے موضوع پر ایک کتاب ’’دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات‘‘ بھی تحریر کی۔ ناولوں کے تراجم بھی کیے، جن میں وِلا کیدر کے ناول ’’My antonia‘‘ کا ترجمہ ’’ویران ہے دل‘‘ خاصا مقبول ہوا۔ تھامس ہارڈی کے مشہور ناول ’’Jude the obscure‘‘ کا ترجمہ کیا تو اس کا عنوان سیماب اکبری آبادی نے ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ تجویز کیا۔ پاکستان آنے کے بعد بھی قیسی کا قلم نہیں رکا بلکہ بےشمار ناول لکھتے رہے، وہ اپنے وقت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناول نگار مانے جاتے تھے۔ قیسی رام پوری 10 فروری 1974ء کو بعارضہ قلب کراچی میں انتقال کر گئے۔

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

بقول چکبستؔ اگر زندگی عناصر کا ظہورِ ترتیب ہے تو ایک بڑا ناول عناصر کے ظہورِ ترتیب کی بے ترتیبی ہے۔ اُسامہ بھی جوناتھن لِونگ سٹن سِیگل (Jonathan Livingston Seagull) کی مانند پرواز کی طے شدہ حدّوں سے پار جانا چاہتا ہے۔ ناول کی جو مقیّد حدود ہیں اُن کو بھی عبور کرنا چاہتا ہے۔ اگر بڑی نثر بے یقینی کو عارضی طور پر معطّل کر دیتی ہے تو اس کی ایک منفرد مثال اُسامہ صدیق کا ناول ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اکیسویں صدی کے پہلے دو دہائے اُردو میں ناول کے دہائے سمجھے جاتے ہیں، کئی اچھے ناول اور ناول نگار سامنے آئے۔ انھیں میں ایک چونکا دینے والا نام اُسامہ صدیق کا ہے۔ اَدبی دُنیا میں ان کی آمد عبد اللہ حُسین سے وابستہ وہ روایت یاد دلا دیتی ہے کہ وہ پہلی بار ’’اُداس نسلیں‘‘ کے ساتھ متعارف ہوئے اور اَدبی اُفق پر چھا گئے۔ اُسامہ بھی ایسے ہی خوش قسمت ادیبوں میں سے ہیں۔ اُسامہ پر اس پرانی کہاوت کا اطلاق ہوتا نظر آیا کہ اس کے آنے کی خبر سُن کر سرخ قالین بچھا دیے گئے، وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔ ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ نے پہلی بار مجھے ناول کی ایک اچھی تعریف سجھائی کہ ناول خصوصی حالات و واقعات کا عمومی اور سہل اظہار ہے اور عمومی حالات و واقعات کا غیر معمولی اظہاریہ۔ یہ ناول نئے عہد کا ڈسکورس ہے۔ یہ نئی صدی کا کلامیہ ہے۔ وجود سے لاوجود کا قِصّہ ناول کی مرکزی جہت ہے۔ اُسامہ صدیق نے اس فکر کی گہرائی کو انتہائی جدید اُسلوب اور تکنیک بخشی ہے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ اک لمبا عرصہ اس ناول پر بات چیت جاری رہے گی۔ ڈاکٹر طاہرہ اقبال ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ مجھے ختم کرنے میں کچھ دن تو لگ گئے مگر سہج سہج پڑھنا بہت سود مند ثابت ہوا۔ مجموعی طور پر با کمال ناول ہے۔ میرے خیال میں اس کا پلاٹ ہرگز روایتی نہیں، اس لیے ہر کوئی اس کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے نہ تحسین کر سکتا ہے۔ اس کا خلاصہ بنانے کی کوشش بھی عبث ہے۔ اُردو ناول میں اس طرح کا تجربہ اس سے پہلے کرنے کی کسی نے جراَت نہیں کی۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا انگریزی میں "Snuffing Out the Moon" جیسا عمدہ ناول لکھنے کے بعد اُردو کے اس ناول میں اُسامہ کی تحریر اور جو فضا یہ قائم کرتے ہیں اور جس طرح سے انھوں نے داستانوں کے حوالے دیے ہیں اور جس طرح اپنی زندگی کے سفر کو انھوں نے لاہور سے جوڑا ہے وہ حیران کن حد تک متاثر کن ہے۔ یہ شاید اس لحاظ سے اکیلے ہیں کہ جس اعلیٰ معیار کی انگریزی فکشن انھوں نے لکھی ہے اس سے بھی بہتر معیار کی اردو فکشن لکھی ہے۔ اس ناول سے مجھے جیمز جوئیس کے مشہورِ زمانہ ناولوں "Ulysses" اور "Dubliners" کا خیال آتا ہے جو Dublin کے بارے میں ہیں۔ What Dublin was for James Joyce Lahore is for Osama Siddique۔ یہ کتاب کیا چیز ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ میں اگر اپنے گھر میں کتابوں کو ترتیب دوں تو اُسامہ کی اس کتاب کو قرۃ العین حیدر کی کتابوں کے قریب ہی رکھوں گا۔ غازی صلاح الدین اُسامہ صدیق کا اُردو نثر کا مطالعہ جدید اُردو ناول لکھنے والوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ خاص کر کلاسک اُردو داستانوں کا مطالعہ اُنھوں نے بہت کر رکھا ہے اور مسلسل کرتے ہیں۔ عالمی ادب کے ناول بھی پڑھ رکھے ہیں، لہٰذا وہ اُردو ناول کی مبادیات، تاریخ اور تہذیب و ارتقا سے مکمل واقف ہیں۔ یہ ناول سب سے ہٹ کر اپنی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ اُسامہ اب ایسا ادیب ہے جس کو ضرور بر ضرور پڑھا جانا چاہیے۔ علی اکبر ناطق اُسامہ صدیق کا ناول لاہور کے نام ایک محبت نامہ ہے۔ اگر آپ افتاد طبع کے لحاظ سے الف لیلوی واقع ہوئے ہیں، قصہ چہار درویش، آرائش محفل اور ہزار داستان جیسی تحریریں پڑھتے ہیں، جاڑوں کی ٹھٹھرتی چاندنی میں گلیوں میں بے مقصد گھومتے ہیں، میٹھا پان کھا کے ’اے دل کسی کی یاد میں‘ گاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں اور کسی شام ہم جیسے قصہ گووں کی محفل میں آ نکلتے ہیں تو فوری طور پہ یہ ناول حاصل کیجیے۔ یہ ناول ایک کیفیت ہے۔ ویسی ہی کیفیت جیسی نومبر کے اوائل میں علی الصباح ہار سنگھار کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کے چپ چاپ اس کی کلیوں کو کندھوں پہ، بالوں پہ، نم زمین پہ گرتے ہوئے محسوس کرنا۔ آمنہ مفتی بیسویں صدی کے ربع اوّل میں دو ناولوں پہ بہت زیادہ گفتگو ہوتی رہی اور ہو رہی ہے۔ پہلا ہے ’’غلام باغ‘‘ اور دوسرا ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس صدی کا تیسرا اہم ناول ہے جس میں ہمارے وجود کے بارے میں سوچا گیا ہے۔ اس کا ایک خاص کمال یہ ہے کہ اس میں حقیقی مقامات اور کرداروں کو fictionalize کیا گیا ہے۔ جب کوئی تخلیق کار یہ کمال کر پاتا ہے تو وہ کردار eternal ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ جاننا ہو کہ پچھلے پچاس سالوں میں ہمارے ساتھ، ہمارے وجود کے ساتھ، ہمارے معاشرے کے ساتھ، ہماری ثقافت کے ساتھ، اور ہماری زندگی کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس ناول کو پڑھے بغیر ہم یہ نہیں جان سکتے۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن

یہ کتاب احمد ندیم قاسمی کے ۹ افسانوں کا مجموعہ ہے۔

(محمد اظہارالحق)

Bukhara - بخارا yadgar e zaman hain log قیسی رامپوری (پیدائش: 20 جونPages: 311 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products