Ainko islam aur maghrib محمدحامد زمان جسم کے سفر
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 7 - Aug 12
Pay in 4 interest-free payments of $81.25 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 7 - Aug 12
محمدحامد زمان جسم کے سفر میں درپیش پڑاؤ کو روح کے سفر میں قطب نما کے طور پر یوں استعمال کرتے ہیں کہ کثافتیں لطافتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، مبہم علامتیں واضح سنگ میل نظر آتی ہیں اور مسافرت ایک آفاقی آدرش میں ڈھل جاتی ہے۔ ان کے سفرنامے انسانی تجربے کی پیچیدگیوں سے نبردآزمائی، دوئیوں میں بٹی دنیا میں کسی نادیدہ اکائی کی کھوج اور کثرت میں سے مسلسل وحدت برآمد کرتے رہنے کی کاوشیں ہیں۔ حامد زمان کی انگلی پکڑ کر سفر میں ان کے ساتھی بنیں تو گرین لینڈ کے سفید جزیرے، وہیل مچھلیاں، مجسمے، عجائب گھروں کے کمرے، مسجدوں اور کلیساؤں کے بُرج منارے، عالمی معاشی اداروں کی پر شکوہ عمارات، سرنگیں،سیاسی انقلابوں سے منسلک چوک اور مقبرے محض ’’جگہیں‘‘ نہیں رہتیں بلکہ ایسی مکانی علامات میں تبدیل ہو جاتی ہیں جو لمحہ ٔ موجود میں وارد ہونے والی جذبات و احساست کی کیفیات سے منسلک ہیں۔یہ خوبصورت عکس جو مسافر کے لیے آئینہ ہیں، قاری کے لیے کبھی تو حیرت کا سامان ہیں اور کبھی علم و آگہی کا۔ اگر آپ کے اندر بھی ایک مسافر کی روح ہے تو حامد زمان کی بنائی گئی ہر تصویر آپ کو اپنے کان میں سرگوشی کرتی محسوس ہو گی جس کے معنی اس پڑاؤ پر منحصر ہیں جو یا توآپ کے روحانی سفر میں کہیں نہ کہیں آپ کا منتظر ہے یا پھر آپ کی یاداشت کی تہوں میں دفن۔مجھے تو یہ ایک تاؤ اصول کی آفاقیت کا اظہار معلوم ہوئی۔ یوں لگا جیسے کوئی قدیم چینی روح میرے کان میں کہہ رہی ہو: تم دس ہزار چیزوں کو کھوجتے ہو جو اپنی اصل میں ایک ہی ہیں۔ عاصم بخشی
شیخ اکبر نے یہ کتاب اہل تصوف کے تین گروہوں کے لیے لکھی اور ہر باب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہ تین گروہ : 1- صاحب کشف محققین، 2- شیوخ، 3- سالکین و مریدین ہیں۔ شیخ نے ابواب کتاب میں ایک سا اسلوب نہیں اپنایا بلکہ اسلامی افلاک کو فہم سے قریب تر کیا ہے، تاکہ ہر طالبِ ہدایت، مرید اِس سے نفع اٹھا سکے۔ جبکہ ایمانی اور احسانی افلاک کو فہم سے دور رکھا ہے؛ اِس غیرت سے کہ کہیں نااہل کی ان تک رسائی نہ ہو جائے، اور وہ اِن کا دعوی نہ کر بیٹھے۔ لہذا ان دونوں افلاک میں اشاروں کی زبان اپنائی گئی، استعارہ بندی کی صنف کا بھرپور استعمال کیا گیا، معانی اور الفاظ کو اس حدتک مبہم رکھا گیا کہ محض عبارت پڑھنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لہذا جہاں جہاں شیخ اکبر نے فہم کا اسلوب اپنایا وہاں عربی عبارت اور اردو ترجمہ شیخ کے اسلوب سے قریب تر ہے۔ ان مقامات پر بات سمجھ بھی آتی ہے اور سمجھائی بھی جا سکتی ہے۔ لیکن جو مقامات اصل عربی میں ابہام کے متقاضی ہیں اُن عبارات کی کما حقہ درست ترجمانی کسی صاحب کشف ہستی کے لیے ہی ممکن ہے، جو ذوق سے ان مقامات پر مطلع ہوا ہو۔ ہم نے اپنے شیخ احمد محمد علی کی وساطت سے اس بارے میں کچھ جمع تفریق کی ہے لیکن پھر بھی اِن مقامات پر شیخ کا حقیقی مدعا بعینہ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ امید ہے شیخ ہمارا عذرقبول کریں گے۔اسی طرح کتاب کے قارئین سے بھی ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنے مقام اور مرتبے کے حوالے سے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر بعض اعلی مقامات میں اردو ترجمہ یا عربی متن بھی حقائق سے دور ہوتا دکھائی دے تو حقائق پر ہی بھروسا کریں۔
مجھے امید ہے کہ اس کتاب میں کی گئی گفتگو نہ صرف ان قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی جو بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں، بلکہ شاید ان کے لیے بھی جو پاکستان کی سیاسی اساس و تاریخ، آئین، معاشرتی انصاف اور انسانی حقوق کے مسائل سے اپنے غور و فکر کا تعلّق جوڑتے ہیں۔
but her efforts are fruitless
India and Afghanistan
Ainko islam aur maghrib محمدحامد زمان جسم کے سفرPages: 328 Category: Children Book