Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN200.00 PLN248.00

Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more

Barasgher Main Muslaman Moashry Ka Almia - برصغیر میں مسلمان معاشرے کا المیہ Fikre Iqbal Ka Taauraf علی اکبر ناطق کے بارے

SKU: 52298649152
4.7

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18

Description

علی اکبر ناطق کے بارے میں اب یہ حکم لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ جدید شعر میں ان کی اگلی منزل آگے کہاں تک جائے گی کہ ہر بار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے پہلے کلام میں تازگی اور میرا جی کی سی قوت اور داخلیت تھی۔ روایت اور تاریخ کا شعور بھی حیرت زدہ کرنے والا تھا۔ اب کے کلام میں لہجہ جدید نظم کے کلاسک شعرا سے بالکل الگ بھی ہے، نیا بھی ہے اور جوش درد سے بھی بھرا ہوا ہے اور صرف اور صرف اُن کا اپنا ہے، اس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ محبت کی باتیں بہت ہیں لیکن اُن میں زیاں اور ضرر کا احساس بھی زیادہ ہے۔ لہجہ پیغمبرانہ ہے۔ نظم کا بہائو اور آہنگ کی روانی ایسی ہے کہ حیرت پر حیرت ہوتی ہے، خاص کر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت ان کے کلام پر پنجابی کا اثر عام سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ پیوند بہت ہی اچھے لگتے ہیں۔ اس مجموعے کی نظمیں ہماری جدید شاعری کے لیے ایک مطلق نئی چنوتی لے کر آئی ہیں۔ اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے۔ شمس الرحمٰن فاروقی الٰہ آباد علی اکبر ناطق کی لگ بھگ ہر نظم سننے کے بعد جب بھی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اِس نے اپنے اظہار کی معراج حاصل کر لی ہے اور اِس سے آگے بڑھنا نا ممکن ہو گا ،وہ اگلی ہی نظم میں ایک نیا راستہ اختیارکر کے نئے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے ۔ اِس کی مثال کے لیے ’’یاقوت کے ورق‘‘ میں شامل سفیرِ لیلیٰ دیکھیے جو اپنی اُٹھان کے لحاظ سے زمانۂ قبل از اسلام کے سبع معلقات کی یاد دلاتی ہے اور اِس کے بعد زیرِ نظر مجموعے میں دیسی رنگ ڈھنگ کی نظمیں دیکھیں۔ یقین کرنا مشکل ہو گا کہ یہ ایک ہی شاعر کی تخلیقات ہیں۔ نثر کے برعکس اِ س کی شاعری میں مابعد الطبیعاتی پہلو بہت نمایاں ہے۔ ناطق کی نظم کا بیج مٹی میں ضرور ہوتا ہے لیکن نظم اُوپر اور اُوپر اُٹھتے اُٹھتے جاودانی آسمان کی وسعتوں سے ہم آہنگ ہو کر آفاقی اسطورہ بن جاتی ہے جسے آپ غیرفانی اساطیر کے پہلو میں دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے ایک اعزاز رہا ہے کہ میں پچھلے دس برس سے علی اکبر ناطق کی تقریباً ہر نئی نظم کا اوّلین سامع رہا ہوں، اِس کے باوجود کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اُس کی نئی کاوش سنتے وقت دل میں یہ سوال پیدا نہ ہو کہ اِس شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی تھاہ ہے بھی کہ نہیں ۔ زیف سید اسلام آباد میرؔ نے اکیسویں صدی میں جس ہرے بھرے اور شفاف قالب میں ٹھکانہ کیا ہے، اسے آپ ہم علی اکبر ناطق کے نام سے پہچانتے ہیں۔ ناطق کے شعر کا حال صبا ایسا لطیف اور آبشار جیسا نظیف ہو چلا ہے

نئے پاکستان

ناطق کے لیے اب یہ حکم لگانا مشکل ہے کہ اُن کی اگلی منزل کہاں تک جائے گی کہ ہربار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے تمام کام میں تازگی ہے، روایت اور تاریخ کا شعور حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ جس طرح اُن کا شعر اور پھر فکشن میں کام ہے۔ اِس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، افسانہ نگار بھی ہیں اور ناولسٹ بھی۔ اُن کےفکشن میں پنجاب کی سرزمین میں غیرمعمولی دلچسپی اُن کے بیان میں غیرمعمولی مہارت کا ثبوت دیتی ہے۔ ناطق کی نثر سے مکالمہ اور بیانیہ کے نامانوس گوشوں پر اُن کی قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ناطق کے فکشن کا قاری خود انسان اور فطرت کے پیچیدہ رشتوں، انسان اور انسان کے درمیان محبت اور آویزش کے نکات سے بہرہ اندوز ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ علی اکبر ناطق سے اُردو ادب جتنی بھی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کرے، نامناسب نہ ہو گا۔ اِن کا سفر بہت طویل ہے، راہیں کشادہ اور منفعت سے بھری ہوئی ہیں۔

unconstrained by concerns of referential ‘truth’

almost irrational force

Barasgher Main Muslaman Moashry Ka Almia - برصغیر میں مسلمان معاشرے کا المیہ Fikre Iqbal Ka Taauraf علی اکبر ناطق کے بارےPages: 110 Category: History

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products