فرانس اور رُوسی ادیبوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں جو ادب تخلیق کیا وہ آج بھی دو سو برسوں بعد دُنیا بھر کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ اس دَور کے لکھے ہوئے شاہکار آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان ادیبوں اور ان کی تحریروں سے لوگوں کی محبّت کم نہیں ہوئی۔ آج بھی ٹالسٹائی کا "War and Peace" ہو یا وکٹر ہیوگو کا "Les Miserables" یا پھر دستویفسکی کا ’’برادرز کرامازوف‘‘ ، دُنیا کے بڑے ناولز میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
culminated in the overt Indian intervention in Jammu and Kashmir
OSAMA SIDDIQUE has been a Rhodes scholar at Oxford
(۱)توحید و رسالت اور زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت۔ (۲)سلامتی کا راستہ۔ (۳)اِسلام اور جاہلیت۔ (۴)دینِ حق۔ (۵)اِسلام کا اخلاقی نقطہ نظر۔ (۶)تحریکِ اِسلامی کی اخلاقی بنیادیں۔ (۷)بنائو اور بگاڑ۔ (۸)جہاد فی سبیل اللہ۔ (۹)شہادتِ حق۔ (۱۰)مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل۔ (۱۱)اِسلام کا نظامِ حیات۔
Pages: 210
Mother Ilmi Aur Adabi Pehloo) By Muhammad Ikram Chughtai فرانس اور رُوسی ادیبوں کوPages: 386 Category: English 1907. Maxim Gorky, pseudonym of Alexei Maksimovich Peshkov, Soviet novelist, playwright and essayist, who was a founder of social realism. Although known principally as a writer, he was closely associated with the tumultuous revolutionary period of his own country. The Mother, one of his best known works, is the story of the radicalization of an uneducated woman that was later taken as a model for the Socialist Realist